سورہ کہف کے فضایل اور خواص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ارشادات مندرجہ زیل ہیں۔
حدیث۔۱حضرت برا۶ بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے روییت کی ہے کہ حضور ٌ کے دور میں اپنے گھر میں سورہ کہف کی تلاوت کی،ان کے گھر میںایک گھوڑا بندھا ہوا تھا،وہ تلاوت سن کر خوشی سے اپنے پیر اور گردن کو ہلانے لگا اور ایک بادل کا ٹکڑا آ کر اس پر سایا فگن ہو گیا۔
اس نے اس کا زکر حضورٌ کی خدمت اقدس میں کیا تو حضور ٌ نے فرمایا کہ سورہ کہف پڑھا کرو کیوں کہ
سکینہ ہے یعنی اس سے سکون ملتا ہے۔ اور یہ بزریعہ وحی قرآن میں نازل ہوئ۔(بخاری شریف)۔
حدیث ۔۲حضرت ابوالدردا۶ سے روایت ہے کہ حضور ٌ نے فرمایا کہ جو شخص سورہ کہف کی ابتدائ ۱۰ آیات کی تلاوت کرے وہ فتنہ دجال سے ہمیشہ مخفوظ رہے گا۔(ابوداود۔نسائ)۔
حدیث ۔۳حضرت ابوالدردا۶ سے روایت ہے کہ حضور ٌ نے فرمایا کہ جو شخص سورہ کہف کی ابتدائ ۳ آیات کی تلاوت کرے وہ فتنہ دجال سے ہمیشہ مخفوظ رہے گا۔(ترمزی شریف)۔
حدیث ۔۴حضرت ابوالدردا۶ سے روایت ہے کہ حضور ٌ نے فرمایا کہ جو شخص سورہ کہف کی ٓاخری ۱۰ آیات کی تلاوت کرے وہ فتنہ دجال سے ہمیشہ مخفوظ رہے گا۔(مسلم شریف)۔